جمعرات 5 نومبر 2026 - 14:39
آیت اللہ شیخ حسین معتوق کو سزائے موت سنانے کا فیصلہ قابلِ تشویش ہے، مذہبی آزادیوں پر پابندیاں اور علماء کی گرفتاریاں بند کی جائیں: علامہ مقصود علی ڈومکی

حوزہ/ایم ڈبلیو ایم صوبۂ سندھ کے صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کویت کی عدالت کی جانب سے مجاہد عالمِ دین آیت اللہ شیخ حسین معتوق اور دیگر افراد کو سزائے موت سنانے کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ انصاف، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس فیصلے پر نظرثانی اور اسے فوری طور پر منسوخ کرنے کی ضرورت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبۂ سندھ کے صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کویت کی عدالت کی جانب سے مجاہد عالمِ دین آیت اللہ شیخ حسین معتوق اور دیگر افراد کو سزائے موت سنانے کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ انصاف، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس فیصلے پر نظرثانی اور اسے فوری طور پر منسوخ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی و صہیونی جارحیت کے بعد بعض خلیجی ممالک میں شیعہ مسلمانوں، علماء کرام، خطباء، ذاکرین اور اسلامی مزاحمت کے حامیوں کو گرفتاریوں، سیاسی و سلامتی کے دباؤ اور مذہبی سرگرمیوں پر پابندیوں کا سامنا ہے۔ مجالسِ حسینیؑ، مذہبی اجتماعات اور اظہارِ عقیدہ پر پابندیاں مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ کسی بھی شخص کو اس کے مذہبی عقائد، نظریات یا سیاسی مؤقف کی بنیاد پر انتقامی کارروائیوں کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ علماء کرام اور مذہبی شخصیات کے خلاف قانونی کارروائی میں شفافیت، منصفانہ عدالتی عمل اور بنیادی انسانی حقوق کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ آیت اللہ شیخ حسین معتوق اور دیگر ملزمان کے خلاف عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی جائے، سزائے موت کا فیصلہ منسوخ کیا جائے، گرفتار علماء، خطباء اور دیگر مذہبی شخصیات کو رہا کیا جائے اور خلیجی ممالک میں شیعہ مسلمانوں کی مذہبی آزادیوں اور بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے علمائے کرام، ائمہ جمعہ و جماعت، دینی و مذہبی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر اپنا مؤثر اور اصولی مؤقف اختیار کریں، نماز جمعہ کے خطبات، پریس بیانات اور سوشل میڈیا کے ذریعے مذہبی آزادیوں کے تحفظ اور گرفتار افراد کی رہائی کے لیے آواز بلند کریں۔

انہوں نے کہا کہ مظلوموں کی حمایت، انسانی حقوق کا دفاع اور مذہبی آزادیوں کا تحفظ تمام اہلِ ایمان کی مشترکہ دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha